ہفتہ 17 اکتوبر 2026 - 15:01
جناب زینب سلام الله علیہا عظمت و فضیلت کا منارہ

حوزہ/تاریخ میں بعض شخصیات اپنے عہد کی نمائندگی کرتی ہیں، مگر جنابِ زینب سلام اللہ علیہا وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے عہد کی تعریف بدل دی۔ وہ علی علیہ السلام کی بیٹی، فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تربیت یافتہ اور حسین علیہ السلام کی ہم راز تھیں؛ مگر ان کی عظمت محض نسبتوں کی مرہونِ منت نہیں، ان کی اپنی بصیرت، جرأت اور استقامت کی روشن دلیل ہے۔

تحریر: ایمن زیدی، جامعہ ملیہ نئی دہلی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ میں بعض شخصیات اپنے عہد کی نمائندگی کرتی ہیں، مگر جنابِ زینب سلام اللہ علیہا وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے عہد کی تعریف بدل دی۔ وہ علی علیہ السلام کی بیٹی، فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تربیت یافتہ اور حسین علیہ السلام کی ہم راز تھیں؛ مگر ان کی عظمت محض نسبتوں کی مرہونِ منت نہیں، ان کی اپنی بصیرت، جرأت اور استقامت کی روشن دلیل ہے۔

زینبؑ عورت کی وہ عظمت ہیں جسے مصیبت جھکا نہ سکی، اسیری خاموش نہ کر سکی اور اقتدار مرعوب نہ کر سکا۔

کربلا میں حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے حق کی تاریخ لکھی؛ شام میں زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے سے اس تاریخ کو ابدیت عطا کی۔ خیمے جل چکے تھے، عزیز قربان ہو چکے تھے، قافلہ اسیر تھا؛ مگر اس تباہی کے درمیان ایک ایسی شخصیت کھڑی تھی جس کا حوصلہ کسی شکست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

یزید کا دربار اپنی ظاہری شان پر نازاں تھا۔ اسے گمان تھا کہ اس نے حسینؑ کو قتل کرکے ان کے پیغام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے سامنے کھڑی خاتون محض ایک سوگوار بہن نہیں، کربلا کی زندہ گواہی ہے۔ زینبؑ نے اس کے ایوان میں حق کی ایسی صدا بلند کی کہ فتح کا جشن اخلاقی شکست کے سوالات میں گھر گیا۔

ان کا تاریخی اعلان تھا:

«فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ، وَنَاصِبْ جُهْدَكَ»

اپنی ساری چالیں چل لے، اپنی پوری کوشش کر لے اور اپنی دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھ!

یہ الفاظ ایک اسیر خاتون کے نہیں، آزاد ضمیر کی آواز تھے؛ یہ جبر کے سامنے جھکی ہوئی گردن نہیں، حیدری شجاعت سے سربلند کردار تھا۔

یزید نے جسموں کو قید کیا تھا، مگر زینبؑ نے اس کے اقتدار کو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

زینبؑ کی شجاعت کا راز یہ تھا کہ وہ غم سے ناواقف نہ تھیں، بلکہ غم کی انتہا دیکھ کر بھی مقصد سے غافل نہ ہوئیں۔ ان کے آنسو انسانی محبت کی گواہی تھے اور ان کا خطبہ غیر معمولی فکری قوت کا اعلان۔ انہوں نے ثابت کیا کہ صبر کا مطلب خاموشی نہیں، اور وقار کا مطلب ظلم کے سامنے بے زبان رہنا نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں زینبؑ کی سیرت عورت کے بارے میں قائم بہت سے محدود تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔ عورت صرف کسی کی بیٹی، بہن، بیوی یا ماں ہونے سے قابلِ احترام نہیں؛ وہ اپنی مستقل انسانی شخصیت، فکر، علم، کردار اور ارادے کے باعث بھی احترام کی مستحق ہے۔ زینبؑ نے اپنے عمل سے دکھایا کہ عورت تاریخ کی محض تماشائی نہیں، اس کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی شخصیت بھی ہے۔

ان کی عظمت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ان کے نام پر آنسو بہائے جائیں؛ تقاضا یہ بھی ہے کہ بیٹیوں کو علم دیا جائے، خواتین کی عزت و حقوق کی حفاظت کی جائے، ان کی رائے کو اہمیت دی جائے اور معاشرے میں ان کے وقار کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے۔ زینبؑ کی عقیدت اگر کردار میں نہ ڈھلے تو وہ اپنے اصل مقصد سے محروم رہ جاتی ہے۔

آج بھی ہر وہ آواز جو ظلم کے سامنے حق کہتی ہے، ہر وہ ضمیر جو مفاد پر انصاف کو ترجیح دیتا ہے، اور ہر وہ خاتون جو مشکلات کے باوجود اپنی خودداری اور اصولوں کی حفاظت کرتی ہے، زینبی سیرت سے حوصلہ پاتی ہے۔

زینبؑ نے دنیا کو بتایا کہ طاقتور ہونا اور حق پر ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں؛ تخت پر بیٹھنے والا لازماً فاتح نہیں، اور آزمائش میں گھرا ہوا انسان لازماً شکست خوردہ نہیں ہوتا۔

سلام ہو جنابِ زینب سلام اللہ علیہا پر، جنہوں نے کربلا کے بعد حق کی امانت سنبھالی، اسیری میں عزتِ نفس کی حفاظت کی اور اپنے خطبے سے ثابت کیا کہ باطل کی قوت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو، حق کی آواز اس سے بلند تر ہو سکتی ہے۔

زینبؑ—وقارِ عظمتِ حوّا کا نام؛ وہ عظمت جو نسب سے پہچانی گئی، کردار سے ثابت ہوئی اور تاریخ میں اپنے لازوال نقوش چھوڑ گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha